زمان و مکان ۔
قرآن کے زمان و مکان کے ضمن میں یہ جاننا بھی ضروری ہے کہ قرآن کا کچھ حصہ مکہ میں نازل ہوا اور کچھ مدینہ میں، اسی طرح حجاز کے اطراف میں، مگر ایک بہت ہی اہم واقعہ جو پیش آیا اسلام کی تاریخ میں وہ تھا ہجرت۔
ہم ان تمام سورتوں اور آیات کو مکی جانتے ہیں جو کہ ہجرت سے پہلے نازل ہوا اور اس حصہٗ قرآنی کو مدنی مانتے ہیں جو ہجرت کے بعد نازل ہوا۔
طریق نزول قرآن۔
قرآن کی تنزیل کا طریقہ آیات بہ آیات اور بطریق اقساط نازل ہوا۔ یہی بات مشرکین مکہ اور مخالفین کے لئے ایک منطق بن گئی کہ چونکہ یہ قرآن اللہ کا کلام نہیں بلکہ جناب محمدؐ اسے خود اپنی طرف سے گڑھ لائے ہیں، نعوذباللہ۔ اسی لئے ہمیں، جتنا بن پاتا ہے لا کے سنا دیتے ہیں اور پھر کچھ مزید ریاض کرتے ہیں پھر کچھ جمع کرتے ہیں اور بعد میں سناتے ہیں۔ اور چونکہ قرآن کا طریق بہت حد تک انکو شاعری سے ملتا جلتا لگتا تھا تو ظاہر ہے کوئی شاعر بھی اپنا پورا کلام ایک ساتھ تو پیش کر نہیں سکتا تو یہ بھی اسی طرح تھوڑا تھوڑا جمع کر رہے ہیں اور پھر ہمیں سنانا شروع کردیتے ہیں۔ نعوذوباللہ۔ دیکھا جائے تو یہ ایک ایسا الزام تھا جو اگر عقل سے سوچا جائے تو بڑا صحیح معلوم ہوتا ہے۔ مگر قرآن خود اس الزام کا جواب ایسا دیتا ہے کہ مشکرین مکہ سے لے کر آج کی تاریخ کا بڑے سے بڑا ملحد اپنی زبان اس جواب کے آگے نہیں کھول سکا۔ جواب بڑا سادہ ہے۔ اگر تمہارے مطابق یہ قرآن اللہ کی طرف سے نہیں آیا بلکہ کسی شاعر، کاہن، جادوگر اور مجنون کا کلام ہے، نعوذوباللہ، تو ذرا اپنی ایڑی چوٹی کا زور لگا لو اور ایک سورت ہی اس جیسی بنا لائو۔ اچھا بڑا مشکل لگ رہا ہے، آدھی سورت ہی بنا لائو، تو اگر اس کی بھی اوقات نہیں لگ رہی، چلو ایک آیت ہی لے آئو۔
معجزہ قرآنی دیکھئے کہ یہ چیلنج قرآن میں آج بھی موجود ہے اور ملحد و کفار کی زبان آج بھی بند۔
اب اگر تنزیل کے معنیٰ کی طرف آئیں تو یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ یہ کلام ایک ساتھ نازل نہیں ہوا بلکہ تھوڑا تھوڑا کر کے جناب محمدؐ پر نازل ہوا۔ جس طرح عربی کے لفظ "انزال" کا تعلق ایک دوسرے لفظ "اعلام" کے وزن پہ ہے، کہ اعلام کا مطلب کسی کو کوئی بات بتا دینا اس طریق پہ کہ بات ایک ساتھ ایک وقت میں سب حاضرین کو بتا دی جائے اعلان کی طرح۔ جس کا مقصد صرف اور صرف بات کا پہنچا دینا ہو، اس سے مطلب نہ ہو کہ آیا سامنے والے کو یہ بات سمجھ بھی آئی کہ نہیں۔ ایک اعلان ہوا جس نے سنا سن لیا، جو نہ سن سکا وہ دوسروں سے معلوم کرتا پھر رہا ہے۔ قرآن ایک ساتھ نازل نہ ہونے کی بہت ساری وجوہات کے ساتھ ساتھ یہ ایک بڑی وجہ بھی بنی، اس کو بتا کے آگے نہیں بڑھنا ہے بلکہ اس کو اتارنے کا مقصد کیونکہ کچھ اور ہی ہے تو اس کا طریق اعلام یا انزال کے طور پہ نہیں ہے۔ اب آئیے لفظ تنزیل پہ، تو اسی پہلی مثال کی طرح اس کا وزن بنتا ہے لفظ "تعلیم" پر۔ اور یہ بات سب جانتے ہیں کہ تعلیم کا طریق کار کیا ہے۔ جسے یہ تعلیم دی جارہی ہے اسے سکھانا مقصود ہے نہ کہ بتا کے آگے بڑھ جانا۔ تو آپ یہ دیکھیں گے کہ تعلیم کے طریقے میں بات کو بڑی آسان انداز میں شروع کیا جائے، اتنا ہی بتایا یا سکھایا جائے کہ جتنی سامنے والے کی استطاعت ہو۔ آج صرف ایک بات بتائی جائے، کل کچھ بہتری معلوم ہو تو مزید دو باتیں بتائی جائیں۔ اسی طرح تعلیم اپنے درجات مکمل کرتی ہوئی آگے بڑھے۔ قرآن کا طریقہ بھی ایسا ہی ہے، یہ متکلم یعنی جس سے کلام کیا جارہا ہے اسے اس ہدایات کا لاد دینا مقصود نہ ہو بلکہ اسے سکھانا اور سمجھا دینا اس کا اصل مقصد ہو۔
سلسلہٗ ترسیل۔
قرآن کے لوح محفوظ سے نقل ہوکر سمائے دنیاوی پہ آجانے کہ بعد ایک فول پرف سسٹم کے تحت اسے جناب محمدؐ تک پہنچایا گیا۔ اسے قرآن خود بیان کرتا ہے کہ یہ پہلے کلام اللہ بنا اور سونپا گیا جبرٰئیلؑ کو۔ یہ فرشتہٗ عالی جو کہ خود امین اور سردار ملائک ہیں اسے لے کر آئے جناب محمدؐ کے قلب مبارک پر، تو یہ بن گیا قول جبرٰئیلؑ۔ قرآن میں ہم اسی ریفرینس کو دیکھیں گے کہ اسے کلام اللہ بھی کہا جارہا ہے اور قول جبرٰئیلؑ بھی۔
اب لوح محفوظ، جو کہ اس کے نام سے ظاہر ہے کہ وہ جگہ انتہائی محفوظ ہے، قرآن نقل کر کے سمائے دیناوی یعنی وہ پہلا آسمان جو کہ دنیا کے اوپر موجود ہے وہاں اسے رکھا گیا اور بطریق تنزیل اسے قلب محمدیؐ پہ اتارا جاتا رہا۔ اب لازم تھا کہ اس فول پروف سیکیورٹی کے تحت مضبوط انتظام یہاں بھی کئے جائیں۔ تو شہاب ثاقب کے میزائل سسٹم کی تنصیب ہوئی۔ شیاطین جنات، جن کے لئے ان کی اپنی فطری حالت کی وجہ سے آسمان اور کہکشاں میں گھومنا پھرنا تو بڑا آسان تھا، اور ان کی یہ بڑی کوشش رہی کہ کلام اللہ کی کچھ باتیں، کچھ راز اور نشانیاں چرا کے لے جائیں۔ تو اللہ کا یہی شہاب ثاقب کا میزائل سسٹم اب ان کے پیچھے دوڑتا تھا اور انکو کامیاب نہیں ہونے دیتا تھا، ہم آج کے زمانے میں ایسے میزائل سے واقف ہیں جو حرارت کا پیچھا کرتے ہوئے اپنے نشانہ کو جا دبوچتے ہیں، اسی طرح شہاب ثاقب کلام اللہ کی فول پروف سیکیورٹی بن گئے اور جب تک قرآن کی تنزیل واقع ہوتی رہی اس سسٹم کو خاص اسی مقصد کے لئے استعمال کیا گیا۔
ناسخ ومنسوخ۔
قرآن کو مخلوق سمجھنے کے مسئلے کے بعد ایک اور چیز نے منکر قرآن اور منکر احادیث کو شش و پنج میں مبتلا رکھا، وہ تھا کسی آیت کو منسوخ سمجھنا۔ اب اگر تھوڑی سی بھی عقل کو استعمال کیا جائے تو یہ بات بہت ہی آسانی سے سمجھ آسکتی ہے کہ جب بھی کوئی کتاب لکھی جائے تو مختلف درجات میں کسی پچھلی بات کو مزید سمجھانے کے لئے اسے تدریجا سمجھایا جائے گی، ورنہ تعلیم کا اصل مقصد تو فوت ہوجائے گا۔ مثلا اگر ہم کمپیوٹر ٹیکنالوجی کے بارے میں کوئی ڈگری لینا چاہیں تو کیا ایسا ہوسکتا ہے کہ ہم کمپیوٹرکے حصے کے بارے میں جاننے سے پہلے ہی سیدھا مائیکرو چپ پہ چلے جائیں گے؟ ایسا ہرگز نہیں، پہلے آپ سمجھیں گے کہ کمپیوٹر کا ڈبہ یعنی "سی پی یو" ہی اصل کمپیوٹر ہے، مگر جس طرح آپ آگے بڑھیں گے آپ کو پتہ چلے گا، جی نہیں ! اس ڈبے میں ایک خاص چیز ہے جو اصل کمپیوٹر ہے، اور اسے کنٹرول یونٹ کہا جاتا ہے۔ ابھی آپ شاید یہ پوری طرح سمجھ ہی پائے ہوں، آگے مزید بات چلتی ہے، کہ نہیں !! کنٹرول یونٹ کے اندر جو مائیکرو چپ ہے اور اس کے بھی اندر جو سیمی کنڈکٹرز کا جال بچھا ہے اصل کمپیوٹر تو وہ ہے۔
اب کوئی اگر اپنی اسی کلاس میں کھڑا ہو کے چلانا شروع کردے، بھائی اب تک جو ہم نے پڑھا تھا کہ "سی پی یو" ہی کمپیوٹر ہے، پھر استاد فرماتے ہیں اس کے اندر کنٹرول یونٹ ہے وہ کمپیوٹر ہے ، اور اب آپ فرما رہے ہیں کہ سیمی کنڈکٹرز اصلا کمپیوٹر ہیں، تو یہ ثابت ہوا کہ اس سے پہلے کی ساری تعلیم ناسخ و منسوخ ثابت ہوئی؟
جن طلباٗ کو تھوڑا بہت بھی کمپیوٹر سے وافقیت ہو چکی ہوگی وہ یقینا اس کی بات پہ قہقہ لگا کے ہنسیں گے۔ شاید اس کو سمجھانے کی کوشش بھی کریں کہ اگر آپ کو سیدھا سیمی کنڈیکٹر پڑھاتے تو آپ کو خاک سمجھ آتا کہ کمپیوٹر صرف سیمی کنڈیکٹر ہی نہیں ہے، کنٹرول یونٹ اور یہاں تک کہ "سی پی یو" بھی کمپیوٹر ہے۔ مگر تعلیم کے لئے پہلے آسان چیز سمجھائی جاتی ہے اور مشکل چیزیں بعد کے لئے رکھی جاتی ہیں، مگر اسکا ہر گز مطلب یہ نہیں کہ اب تک پڑھا اور سیکھا سب بیکار ہے۔ مگراب جب آپ یہ جان چکے ہیں کہ سیمی کنڈیکٹر ہی کمپیوٹر کی اصل شکل ہے تو اب پچھلی تمام اصطلاحات کو سمجھنے کی حد تک رکھیں، اس پہ حد جاری نہ کریں۔
یہی مثال ناسخ و منسوخ کی ہے، قرآن اسے خود سمجھاتا ہے کہ ہم کسی آیت کو منسوخ نہیں کرتے جب تک کہ اس کی جگہ اسی سے ملتی جلتی مزید تشریح والی آیت یا پھر اس سے بہت بہتر آیت نہ اتار دیں۔ اب اگر آپ قرآن کی مثال لیں تو پہلے حکم آیا، جب شراب پیو تو نماز کے قریب مت جائو، ایک نہایت لطیف انداز میں یہ بتایا کہ سمجھ لو جس طرح نماز میں پاکی ایک اہم فرض ہے تو تمہیں اسی لئے منع کیا جارہا ہے، شراب کو نجس سمجھو اور باز آجائو۔ پھر بڑا کھلم کھلا طریقہ سے قرآن میں آیا کہ یہ حرام ہے۔ یہاں نہ صرف ترتیب زمان کی اہمیت سامنے آتی ہے کہ پہلے کیا بتایا گیا اور بعد میں کیا، ساتھ ساتھ یہ اہمیت بھی سمجھ آئی کہ شراب صرف نماز کے پڑھنے کے لئے ہی نہیں ہر وقت کے لئے حرام مطلق ہے۔ اب ہمارے لئے پہلی بات اشارہ ثابت ہوئی اور آخری بات ایک حکم۔
اہمیت مضامین و احکام۔
قرآن میں دئے گئے احکام اور مضامین اس سنہری اصول پہ کام کرتے ہیں جو ہم اپنی روز مرہ زندگی میں دیکھتے ہیں، یعنی کسی اہم بات کو بار بار بتانا، الفاظ و ترتیب الگ الگ کرکے سمجھانا۔ قرآن میں بھی ہر اہم بات کم از کم دو دفعہ ضرور آئی ہے۔ اس سے قرآن دو اہم پہلو سامنے آتے ہیں۔ پہلا کہ یہ بات جو دہرائی جارہی ہے اسے اہم سمجھا جائے، دوسری یہ کہ اگر یہ بات پہلی دفعہ صحیح سے سمجھ نہ آسکی ہو تو اب اسے کسی دوسرے پہلو سے سمجھایا جارہا ہے۔ اپنے ذہن میں یہ بات ضرور رکھیں کہ قرآن اپنی ہدایات کو تعلیم کا درجہ دیتا ہے اور تعلیم میں آپ پہلے اگر پرائمری کلاس میں ہوتے ہیں تو بعد میں سیکنڈری کلاس میں۔ پڑھتے پہلے بھی سائنس ہیں اور ظاہر ہے بعد میں بھی سائنس ہی پڑھتے ہیں، مگر یہ تکرار اور وضاحت ہی تو اصل میں تعلیم کا حصہ ہے۔ اگر دیکھا جا ئے تو قرآن تعلیم و تربیت اور احکام کی ترسیل کو بتمام حجت تکمیل کرتا نظر آتا ہے۔ تا کہ کل کو کوئی یہ دعویٰ نہ کر سکے کہ اتنی اہم بات سمجھائی کیوں نہ گئی بار بار۔
ہاں یہ بھی کہ ہم ان آیات کو کسی درجہ میں نعوذباللہ کم تر نہیں مان سکتے کہ اس کی تکرار قرآن میں موجود نہیں تو یہ شاید اہم نہ ہوں۔ بلکہ کہیں کہیں اگر اللہ کی قدرت ہمیں ایک شفیق استاد کی حیثیت سے نظر آتی تو کہیں یہی قدرت ایک جلالی کیفیٗت میں بھی بدل جاتی ہے۔ ہم اکثر اپنے چھوٹوں کو کوئی بہت اہم بات صرف ایک بار سمجھاتے ہیں، اور اگر عمل اسکے خلاف پائیں تو پھر یہی شفقت ایک سزا میں بھی تبدیل ہو جاتی ہے۔ وہ الگ بات ہے کہ سزا دینے کے بعد بھی اپنا رویہ ہمیشہ کے لئے سخت نہیں کرتے۔ اللہ کی شان رحمانی اور شان جلالی اور پھر شان غفاری اسی محبت کا کھلا ثبوت ہے جو وہ ہم سے ستؑر مائوں سے بھی زیادہ کرتا ہے۔
تبصرے 0
تبصرے سب کے لیے کھلے ہیں اور اکاؤنٹ درکار نہیں۔ اپنا نام استعمال کریں اور ذاتی معلومات شامل نہ کریں۔